Urdu Sex Stories سیکس سٹوری بھابھی کیاسوچتی ہے۔پارٹ تین

Discussion in 'Erotic Incest Stories' started by عاشقة المحارم, 25/4/16.

  1. عاشقة المحارم

    عاشقة المحارم عضو متفاعل

    Messages:
    130
    Likes Received:
    68
    Trophy Points:
    28
    Gender:
    Female
    Location:
    دبي , الإمارات
    Sex Story jab bhabhi k sath sex karna laga thapar muj ko laga deya
    رات کو بیڈ پہ لیٹا ہوا میں بے چینی سے کروٹیں بدل رہا تھا اور انتظار میں تھا کہ شاید بھابی آ جائیں پر وہ نہیں آئی اور دو دن میں راتوں کو جاگ کے ان کا انتظار کرتا رہا کہ وہ اب آئیں گی اب آئیں گی پر وہ نہیں آئی تیسرے دن رات کو کوئی میں نے بارہ بجے انھیں موبائل پہ ایس ایم ایس کیا کہ اگر آج آپ نہ آئی تو اپنے شوہرکے ساتھ اپنی ہنستی بستی زندگی کی تباہی کی ذمہ دارآپ خود ہوں گی
    اور اس دوران میرا جسم تپنا شروع ہو گیا ایک عجیب سی بےقراری سینے میں بھر آئی تھی آدھا گھنٹہ گزرا تھا کہ میرے روم کہ دروازے پہ بہت ہلکی سی دستک ہوئی میں نے روم کا ڈور کھولا کیا تو سامنے بھابی کھڑی تھی ان کے چہرے پہ ابھی بھی شدید غصّہ تھاوہ ایک ٹراوزر اور ٹی شرٹ میں ملبوس تھی اور ایک سیکسی شال سے انہوں نے اپنے جسم کو ڈھانپا ہوا تھا
    میں ایک سائیڈ پہ ہوگیا اور وہ روم میں داخل ہو کہ میرے ساتھ صوفے پہ بیٹھ گئی میں نے دروازے کو بند کیا اور اپنے بیڈ پہ بیٹھ گیاایک گھنٹہ کے قریب گزر گیا میں انھیں دیکھتا رہا اور وہ غصّے میں صرف زمین کی جانب دیکھتی رہیاور میں نے ان سے کہا یہاں آ جائیں وہ نا آئیں ابھی بھی اپ سیٹ تھی
    میں نے پھر سےکہا تو وہ آہستہ آہستہ قدم اٹھاتی میرے ساتھ بیڈ پہ قریب ہی بیٹھ گئی میں نے ان کہ ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لے لیا تھا ان کے ہاتھ بےجان تھے جیسے پتھر کے ہوں میں نے ان کے دونوں ہاتھوں کو پکڑ کے اپنے ترستے ہونٹوں سے لگانا چاہا تو انہوں نے اپنے دونوں ہاتھ پیچھے کر لیے تھے وہ متواتر اب بھی جیسے شرم آتی ہے زمین کی جانب ہے دیکھ رہی تھی میں ان کے بالکل قریب جیسے چپک ہو کہ بیٹھ گیاہم دونوں کی ٹانگیں زمین کو چھو کر رہی تھی میری دائیں تھائی ان کی بائیں تھائی سے ہلکے سے مست ٹکرا رہی تھی
    میں نے آگے کو ہو کر انھیں گال پہ کسس کرنے کی ٹرائی کی تو انہوں نے اپنا چہرہ پیچھے کر لیا تھا میں نے ایک ہاتھ ان کے گھنے بالوں میں ہلکے سے ڈالا پیار سے اور ان کا کتابی چہرہ اپنی طرف کیا اور ان کےگال پہ آہستہ سے کسس کیایوں لگا جیسے ننھی بچی ہو جیسے میری روح سرشار سی ہو کے رہ گئی
    میرا تپتا ہوا جوان جسم خوشیوں میں ڈوب کے رہ گیااور میرے ساتھ بیٹھی وہ پریوں کی ملکہ گصے میں بھری پڑی تھی سمندر کی طرح فل طوفان میں ان کا غصہ بپھری موج جیسے کئی قسم کی ٹھائیں ٹھائیں ٹھاٹیں مار رہی تھی
    میں نے اپنے ہونٹ آگے کو کیئےاور ان کے رس بھرے انار ہونٹوں پہ رکھ دئیے
    انہوں نے اپنے ہونٹ بھینچ لئے اور میرے ہونٹ ان کے ہونٹوں کو بس اوپر اوپر سے ہی چھوتے رہے ترستے رہےمیرے ہونٹوں نے نیچے کو پیش قدمی کی تھی اور میں ان کی گوری گرم گردن کو چومنے لگا یوں لگا مجھے جیسے کسی پھول کو چھو لیا ہو اس قدر شرساری تھی
    میں نے نوٹ کیا ان کی گردن اتنی ملایم تھی ان کی گردن میرا ہاتھ انکے بالوں میں ہی تھا کہ انکی گردن کو چومتے میں نے بایاں ہینڈ سے ان کے ایک بوبزز کو تھام لیا اف یار کیا مما تھا میں ساتھ ساتھ انکی گردن کو کس کر رہا تھا ساتھ ساتھ انکے بوبز کو آہستہ آہستہ دبا رہا تھا
    پھر میں نے اپنا سر انکی نرم گود میں ان کی نرم اور موٹی سیکسی تھائز پہ رکھا باقی کا میرا جسم میں نے بیڈ کے اوپر کر لیا تھا اب میں نے بایاں ہاتھ ان کی مست بوبز سی ہٹا دیا تھا اور دایاں ہاتھ انکے بالوں سے ہٹا کر انکی سیکسی ٹی شرٹ کہ باٹم تک لایا واہ کیا اسٹائل لڑکی تھی اور انکی شرٹ اوپر کرنا چاہی انہوں نے میرے ہاتھ کو پیچھے جھٹکا اب بھی غصہ تھاپر میں نے پھر سے شرٹ اوپر کرنے کی کوشش کی میں بھی حرامی تھی
    انہوں نے اپنی شرٹ کو نیچے سے پکڑ لیا تھاتاکہ میں اسے اوپر نہ کر سکوںمیں نے بہت مشکل سے ان کی سیکسی شرٹ تھوڑی سی اوپر کی تو مجھے انکا پیٹ نظر آنے لگاوائٹ وائٹ سمارٹ سا تنا ہوا پیٹ میں نے انکے پیٹ پہ کس کرنا شروع کر دئیے اس کی ناف ایک دم لمبی گہری الف شکل والی اچانک میں نے ایک زوردار جھٹکے سے انکی شرٹ کو اوپر کر دیا تھا
    بھابی کے سفید بوبز اف بلیک برا میں لپٹے میرے سامنے آ گےساتھ ہی اگلے جھٹکے میں میں نے بھابی کی سکسی برا کو اوپر کر دیا جس سے بھابی کے سفید متوالے موٹے گول اور کھڑے بوبز میری آنکھوں کے سامنے آ گےمیں نے آؤ دیکھا نا تاو گرم ہوا تھا بھابی کے بوبزپہ منہ مارنا شروع کر دیاکبھی ایک بوبزمیرے منہ میں ہوتا توکبھی دوسرا کتنی ہی دائر میں انکے بوبز کو چوستا اور چاٹتا رہا
    پھر میں پیچھے کو ہو اور انکے چہرے کو دیکھاوہاں تو اب بھی ایک غصّہ اور غصیلی عورت تھی نا جناے وہ کس چیز کی بنی مورت تھی اور سردمہری تھی میں نے اپنا ایک سرہانہ اٹھا کر بیڈ کے درمیان میں رکھا ہوا تھا اور بھابی کو اس پہ الٹا لیٹ جانے کو کہا وہ گصے میں بات مان رہی تھی
    وہ اپنی مٹھیاں بھینچتی ہوئی اٹھی اور اس سرہانے پہ اپنا سیکسی پیٹ رکھتے ہوے الٹا لیٹ گئی اف کیا گانڈ تھی کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا میں بھی بیڈ کہ اوپر آ گیا اور انکی کی مست سیکسی شال کو ان سے جدا کر دیامیرا ہاتھ آگے کو بڑھا اور میں نے ان کے ٹراوزرکو پکڑ کے نیچے کرنا چاہا تو انہوں نے الٹا لیٹے ہی لیٹے میرے ہاتھ پہ اتنی زور کا تھپڑ مارا کے میرا گوراہاتھ سرخ ہو گیا
    Sex Story jab bhabhi ko pata leya to phir kia hoa intresting story
     
Loading...

Share This Page

  • مرحباً بكم فى محارم عربي !

    موقع محارم عربي هو أحد مجموعة مواقع شبكة Arabian.Sex للمواقع الجنسية العربية والأجنبية كما ندعوكم إلي مشاهدة مواقع أخري جنسية صديقة لنا لإكمال متعتكم وتلبية إحتياجاتكم الجنسية .

    سحاق
  • DISCLAIMER: The contents of these forums are intended to provide information only. Nothing in these forums is intended to replace competent professional advice and care. Opinions expressed here in are those of individual members writing in their private capacities only and do not necessarily reflect the views of the site owners and staff
    If you are the author or copyright holder of an image or story that has been uploaded without your consent please Contact Us to request its Removal
    Our Site Is Launched For (Sweden) Arabian Speaking Language