Urdu Sex Stories ہاٹ سیکس سٹوریز بہن کی چدائی پارٹ ون

Discussion in 'Erotic Incest Stories' started by عاشقة المحارم, 25/4/16.

  1. عاشقة المحارم

    عاشقة المحارم عضو متفاعل

    Messages:
    130
    Likes Received:
    68
    Trophy Points:
    28
    Gender:
    Female
    Location:
    دبي , الإمارات
    Hot Sex Stories bahan ki chudai dekhe kia hoa phir
    ہر طرف مکمل خاموشی کا عالم تھا سورج اپنی پوری آب وتاب سے آگ برسا رھا تھا گرمیوں کی اس گرم دوپہر میں جب لوگ اپنے گھروں میں دبکے سکون کی گہری نیند سو رہے تھے قسمت کا مارا روفی چھت کے ایک کونے پر لیٹا اپنی قسمت کو کوس رھا تھا واہ کیا قسمت تھی جو اسے آج اسے اس موڑ پر لےآئی تھی کہ آج وہ اپنے تمام خدشات اور شکوک وشبہات کو دور کرنے کاپختہ ارادہ کرچکا تھا
    اسے شدت سے نائلہ کے چھت پر آنے کا انتظارتھا وقت کافی بیت چکا تھا اور یوں لگ رہا تھا کہ آج وہ ہو سکتا ہے نہیں آئے گی پھر نیچے سیڑھیوں پر کسی کی آھٹ سنتے ہی اسے لگا کہ اس کا انتظار رائیگاں نہیں گیا چھت کی سیڑھیوں کے دروازے سے نمودار ہوتی نائلہ دبے قدموں چھت کے سرے پر واقع پانی کی ٹینکی کی طرف بڑھ رہی تھی
    کافی عرصے سے اسے یہ شک ہوچلا تھا کہ نائلہ کا پڑوس میں کسی سےکوئی چکر چل رہا ہے پہلے پہل تو اس نےاس کو اپنا وہم جانا اور اپنی سوچ کو انتہائی لغو تصور کیا مگرپھر نائلہ کو بڑی باقاعدگی سے بے مقصد چھت پر جاتے دیکھا تو اسےبھی کھد بد رہنے لگی نائلہ کی شوخ اور بےباک طبیعت کا تو اندازہ تھا مگر شک کرنے پر بھی دل آمادہ نہ ہوتا
    آخر مجبور ہوکر سارے معاملے کی کھوج لگانے کا فیصلہ کیا اس وقت بھی چلچلاتی دھوپ میں وہ پسینے سے شرابور چھپ کر چھت پر تاک لگائے بیٹھا تھانائلہ کو چھت پر آئے کچھ دیر ہوچلی تھی اور بے سکونی کے ساتھ ٹہلتے ہوئے کسی کا انتظار اس کے چہرے پر صاف عیاں تھا روفی کوبھی اس کی طرح اب کسی دوسرے مردکی آمد کا انتظارتھا
    اس کی نگاہیں چھت پرہی لگی ہوئی تھیں پر کافی دیر سے چھپ کر اس طرح الٹا لیٹے روفی کو اکتاہٹ ہو رہی تھی تھکاوٹ اور گرمی سے اس کے اعصاب ڈھیلے پڑتے جارہے تھے اپنے اندیشےبھی بےبنیاد ثابت ہوتے دکھائی دے رہے تھے
    پھر اس کی سوئی ہوئی حسیات جاگنے لگیں اور رگوں میں خون کی گردش تیز ہونے لگی دوسرا فریق بھی اب ظاہر ہوچکا تھا اسے دیکھ کر روفی کو شدید حیرت نے آ لیا تھا اس کا خیال تھا کہ نائلہ کا اڑوس پڑوس کے کسی نوجوان سے آنکھ مٹکا چل رہا ہوگا مگر اس کے خواب و خیال میں بھی نہیں تھا کہ وہ اس وقت برابر والی چھت پر خضر انکل کو دیکھے گا
    روفی کو خضر انکل سے ہرگز ایسی امید نہیں تھی اس کی جوانی اور عمر سے کئی گنا بڑے مرد سے بھی چکر ہو سکتا تھا تو ان کے بچے تھے پھر ان دو گھروں کے اہل خانہ میں راہ وسم بھی کافی پرانا تھا بڑا ہونے کے ناطے وہ ان کی عزت بھی بہت کرتا تھا اور پڑوسی ہونے کے وجہ سے کچھ بے تکلفی بھی تھی گھر پر کوئی بڑا نہ موجود ہونے کی وجہ سے وہ اکژاوقات مختلف امور میں اس کی مدد بھی کرتے رہتے تھے
    یہ تواسے معلوم تھا کہ پچاس سے اوپر کے ہونے کے باوجود محلہ کی بہت سی عورتیں ان کی شاندار شخصیت اور مردانہ وجاہت پر مرتیں تھیں ان کا اونچا قد کاٹھ اور مظبوط کسرتی جسم اس عمر میں بھی اچھے اچھے جوانوں کو حسد میں مبتلا کردیتا تھا بڑی میچور عمر کی عورتیں تو ایک طرف بہت سی جوان لڑکیاں بھی دل وجان سے ان پر فدا تھیں یہ بھی اس کو اندازہ تھا کہ بہت سی حسین لڑکیوں کو تو وہ فیض یاب بھی کرچکے ہیں بہرحال اپنی بڑی آپی کو خضر انکل کے لیے بے تاب دیکھ کر روفی کو دکھ اور افسوس نے آلیا
    انیس برس کا خوبرو مگر سیدھا سادھا روفی گھر میں سے سب سے چھوٹا اور کالج کے دوسرے سال میں تھا ماں باپ تو بچپن میں گزر گئے تھے، ایک بڑا بھائی تھا جو روزگار کے لیئے بیرون ملک مقیم تھا گھر کے کل افراد فل وقت دو بڑی بہنوں اور ایک پیاری بھابی پرہی مشتمل تھے صحت مند سیکسی جوان بدن اور کی مالک ستایئس برس کی نائلہ دونوں بہنوں میں بڑی اور شادی کو تیاربیٹھی تھی
    چھوٹی بہن چوبیس سالہ نورین ابھی کالج کے چوتھے سال میں تھی اور بی اے کی تیاری میں مصروف تھی اوپر والے نے دونوں بہنوں کو حسن وجمال سے اس طرح نوازا تھا کہ ان کی جوانی اور سیکسی پن بہت سے دیکھنے والوں کو مشکل میں ڈال دیتی تھی
    شروع جوانی سے ہی اپنےقیامت خیز جوانی پر اُٹھنے والی پرستائش نظروں اور پزیرائی نے نائلہ کو شوخ اور بےباک بنادیا تھا اپنی خوبصورتی سے بھی واقف تھی اور اپنی جوانی پر کچھ ناز بھی تھا اس جوانی کے عاشق اور طلبگار تو کئی تھے اور اسکو بھی ان کی توجہ اچھی محسوس ہوتی
    مگر وہ بھی ہر کسی کو گھاس نہیں ڈالتی تھی مغرور لڑکی مشہور ہو چکی تھی کالج کےآغازمیں کئی لوگ دوستی اور قربت کے خواہشمند ہوئے تو اس نے اپنی تمام تر بےباکی کوچند لو لیٹرز کے تبادلےتحفوں نذرانوں کی وصولی اور ایک آدھ خوش نصیب کے ساتھ باہر گھومنے پھرنے تک محودود رکھا
    اس نے کبھی کسی کو چوت کا اصل دیدار تک نا کرایا تھا سب اس کی پھدی لینے کے دعوے دار تو بن چکے تھے لیکن سچ پوچھیں تو جہاں تک میرا خیال ہے ا سنے پھدی اوپر اوپر سے لن رکھنے کے لیئے بھی نہیں دی ہوگی کیونکہ لڑکی پھدی اگر ایک بار کسی مرد کے سامنے ننگی کر لے تو پھر اس کو لن لینے سے کوئی نہیں روک سکتا
    عورت تما تر شر و حیا کے باوجود بھی لن لینئے نا کالی نہیں لوٹا کرتی یہ الگ بات ہے کہ وہ شلوار نا اتار چکی ہو چوما چاٹی تک رکھا ہو تو چوت دینے سے بچ سکتی ہے تو ادھر بھی معاملہ بھی کچھ اس طرح کا ہی دکھائی دینے لگا تھا لیکن روفی کو اس نائیلہ کی بچی سے کچھ زیادہ ہے وابستی ہو چکی تھی وہ ا سکی پھدی مارے بنا نہٰں ٹلنے والا تھا
    Hot Sex Stories meri aapi chudai ki papi chalo nikli to mae nae kia keya
     
Loading...

Share This Page

  • مرحباً بكم فى محارم عربي !

    موقع محارم عربي هو أحد مجموعة مواقع شبكة Arabian.Sex للمواقع الجنسية العربية والأجنبية كما ندعوكم إلي مشاهدة مواقع أخري جنسية صديقة لنا لإكمال متعتكم وتلبية إحتياجاتكم الجنسية .

    سحاق
  • DISCLAIMER: The contents of these forums are intended to provide information only. Nothing in these forums is intended to replace competent professional advice and care. Opinions expressed here in are those of individual members writing in their private capacities only and do not necessarily reflect the views of the site owners and staff
    If you are the author or copyright holder of an image or story that has been uploaded without your consent please Contact Us to request its Removal
    Our Site Is Launched For (Sweden) Arabian Speaking Language