Urdu Sex Stories سیکس سٹوریز کالج دور کی۔ پارٹ ون

Discussion in 'Erotic Incest Stories' started by عاشقة المحارم, 25/4/16.

  1. عاشقة المحارم

    عاشقة المحارم عضو متفاعل

    Messages:
    130
    Likes Received:
    68
    Trophy Points:
    28
    Gender:
    Female
    Location:
    دبي , الإمارات
    Sex Stories mae college door ki achi yadeen aap k leya hazar haeen
    کالج ویونیورسٹی کی اپنی بہاریں ہیں۔ مجھے شروع دن سے ہی سیکس کی دنیا بہت اچھی لگتی ہے اور میرا دل کرتا ہے کہ میں چودتا ہی رہوں ہر پل میرے ساتھ کوئی سیکسی لڑکی ہو جس کو خود بھی چدائی کی ضرورت ہو تاکہ مجھے زیادہ مزے لے سکوں اور میں لکی ہوں کہ مجھے کالج اور ہونیورسٹی دونوں ادوار میں بہت سیکسی اور خوبصورت لڑکیاں چودنے کو ملیں میں چاہتا ہوں کہ آپکو کو بھی اس سیکسی دنیا کی اک جھلک سے روشناس کراتا چلوں
    مخلوط نظام تعلیم کی رنگا رنگی۔ تتلیوں کی طرح رنگ برنگی لڑکیاں ایم اےکا ایک ایئر تو ان بہاروں سے نظروں کو سینچنے ہی میں گزر گیا۔ دوسرے سال میں جب جونئیرز آئے تو ان میں پھر سے کھلے گلاب سے ہوئے چہروں سے دل کھل اٹھا۔ دو ایک پسند بھی آئیں۔
    جن میں شازیہ سب سے خوبصورت لگی۔ شوخ اور چنچل، ہر وقت کھلکھلانے، مسکراہٹ والی اور شرارتوں میں پیش پیش ہیں ۔ یونیورسٹی میں مختلف پروگرامز کے انعقاد کے لیے ایک سوسائٹی بھی قائم تھی، جس کا سیکرٹری ہونے کے باعث ہر کسی سے بات چیت ہوتی، آوٹنگ امور میں پیش پیش رہنے کی وجہ سے بھی میں جلد ہی سب کی پہچان میں آ گیا تھا۔
    گانے میں بھی خاصا اچھا ہوں اور شاعری کا بھی کچھ شعور ہے۔ اس لیے بہت جلد یونیورسٹی کے ساتھی میں میری شناخت قائم ہو گئی۔ شازیہ کی ایک دوست کے ذریعے میں نے کچھ پیش رفت بھی کی لیکن اس نے بڑے سلیقے سے ٹال دیا۔ ہنسنا بولنا بہر حال جاری رہا۔ پھرمیرا فرست سال کا نتیجہ آیا تو ہماری کلاس کے زیادہ نمبر لینے والے لوگوں کو مقالہ لکھنے کو بھی مل گیا۔
    کلاس کا قابل طالب علم ہونے کی وجہ سے اکثر لڑکیاں اور لڑکے مجھ سے کورس سے متعلق رہنمائی لے لیا کرتے تھے۔ پھر جو جونئیرز تھے کو معلوم ہوا تو وہ بھی فیض حاصل کرنے لگے۔
    شازیہ کوئی پہلی لڑکی تو تھی نہیں، کہ میں اس کے لیےمجنوں کا سا بنا لیتا۔ کچھ اور لڑکیاں رابطے میں تھیں جن سے میسیج پر اچھی خاصی باتیں چلتی رہتی تھی۔ انھی دنوں میں مجھے ایک نیونمبر سےٹیکسٹ آیا۔ پوچھنےپر پتا چلا کہ میری کلاس فیلو ماریہ ہے۔ اس نے رسمی سلام دعا کے بعد اپنا مسئلہ پیش کیا کہ اسے تھیسز کے لیے ہیلپ چاہیے۔ موضوع سے متعلق اگر میں اس کی رہنمائی کر دوں تو میں نے ہامی بھر لی۔ پھر کالج میں اس سے ملاقات ہوئی تو تفصیل سے بات ہوئی۔ میں نے پہلی دفعہ اس پر غور کیا۔
    سفید اجلی رنگت اور جوانی کی نعمت سے بھرپور خاصی جاذبِ نظر لڑکی تھی۔ اور نجانے پچھلے سال میں اس سے کیوں غافل رہا۔ بات کرنے میں ہلکی ہلکی جھجک شامل رہتی تھی اس کے انداز میں۔ اور یہی عادت مجھے بہت پیاری لگتی ہے کسی بھی لڑکی کی۔ خاص طور پر جب وہ خوبصورت بھی ہو۔
    پہلی تفصیلی بات کے بعد ہی میرے دل میں اس کے ساتھ جسمانی تعلق قائم کرنے کا خیال پیدا ہو گیا تھا۔ کیوں کہ وہ تھی ہی ایسی کہ کوئی بھی اس کے ساتھ اپنی یادیں حسین بنانے کو تیار ہو جائے۔ چنانچہ شازیہ کو ایک طرف رکھا اور اس کے بارے میں منصوبہ بندی کا آغاز کیا۔ اور میسجز پر ہماری بات چیت ہونے لگی اور اس طرح سے پہلی بار میں نے محسوس کیا کہ میرے لن میں ھرکت اس کا سوچتے ہی ہونا شروع ہو جاتی ہے
    اور پھر یہ بات چیت معنی خیز جملوں اور لفظوں کا روپ دھارتے دھارتے آخر کاراس انجام کو پہنچی کہ اس نے مجھ سے پیار کا اظہار کر دیا۔ جب اس نے مجھے بتایا کہ وہ پچھلے سال ہی سے مجھے پسند کرنے لگی تھی، مگر ایک نامعلوم سی ہچکچاہٹ کی وجہ سے وہ کبھی بات نہیں کر پائی۔ اس بات کی، جہاں بے انتہا خوشی ملی کہ چلو راہ خود ہی ہموار ہو گئی
    وہیں اس پر بے انتہا غصہ بھی آیا کہ اتنی لیٹ کر دی اس نے۔ آنے والے دنوں میں اور راتوں میں مَیں اسے ہولے ہولے جنسی سیکسی گفتگو کی طرف لے آیا۔وقت گزرتا چلا جاتا ہے۔ آخر مقالہ جمع کرانے میں صرف ایک ماہ کا وقت رہ گیا۔ وہ اسے لے کر بھی پریشان تھی اور چاہتی تھی کہ اب جلدی مہیا مواد پر کام شروع کر دیا جائے۔
    میں نے ایک پلان بنایا۔ اور اسے کہا کہ فلاں دن تھیسیس پر کام شروع کیا جائے گا۔ وہ صبح ساڑھے آٹھ بجے یونیورسٹی پہنچ جائے۔ مخصوص کردہ دن پر جب وہ یونیورسٹی پہنچ گئی تو میں بھی وقت سے پہلے وہاں موجود تھا۔ اسے میں نے کہا کہ یہاں لوگ اپ سیٹ کریں گے، کہیں اور چلتے ہیں۔ اس نے سوالیہ نظروں سے دیکھتے ہوئے نہائیت مختصرلیکن کہاں میں نے مسکرا کر کہا کہ دنیا بہت بڑی ہے۔
    تم بس گیٹ سے باہر پہنچ کر میرا انتظار کرو، میں بھی بائیک لے کر آتا ہوں۔ بائیک ایریا پر آتے ہوئے میں نے فون پر پتا کیا کہ راستہ صاف ہے، تو بائیک نکالی اور اسے باہر سے اپنے ساتھ بٹھا کر چل پڑا۔ اجنبی راہ پر بائیک دوڑتے دیکھ کر اس نے باتوں کے دوران ہنستے ہوئے پوچھا کہ ہم جا کہاں رہے ہیں؟ میں نے مسکرا کر کہا۔ جہاں نصیب لے جائے۔ تم میرے ساتھ ہو نا تو پھر کیا ڈر؟
    میسجز اور کالز کے دوران سیکس کرتے ہوئے میں نے اس سے پوچھا تھا کہ کیا وہ حقیقت میں بھی کرنا چاہتی ہے ایسا؟ تو اس نے اثبات میں جواب دیا تھا۔ سو کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ میں کچھ بھی کرتا وہ رفیوز کرنے والی نہیں تھی۔ اتنا تو مجھے خود پر اعتماد تھا ہی۔ سیکس میسجز کے ذریعے میں نے اس کے انگ انگ اپنے لیے محبت کی انتہا کو پرودیا تھا
    ااور آج اس ساری محنت کا رزلٹ دیکھنے کا موقع ملنے والا ہے۔ کچھ راستے میں اس کے بہت ضد پر میں نے بتایا کہ اُسے میں اپنے گھر لے جا رہا ہوں۔ وہ حیرت زدہ ہوکے کئی سوالات کرنے لگی تھی ۔ اس کے بہت سارے سولات اپنی جگہ بہت زبردست تھے اور اس کا ھق بھی بنتا تھا کہ وہ اس طرح کے سوالات کرے
    Sex Stories mae jin jin ko choda sab batana hae mujhee
     
Loading...

Share This Page

  • مرحباً بكم فى محارم عربي !

    موقع محارم عربي هو أحد مجموعة مواقع شبكة Arabian.Sex للمواقع الجنسية العربية والأجنبية كما ندعوكم إلي مشاهدة مواقع أخري جنسية صديقة لنا لإكمال متعتكم وتلبية إحتياجاتكم الجنسية .

    سحاق
  • DISCLAIMER: The contents of these forums are intended to provide information only. Nothing in these forums is intended to replace competent professional advice and care. Opinions expressed here in are those of individual members writing in their private capacities only and do not necessarily reflect the views of the site owners and staff
    If you are the author or copyright holder of an image or story that has been uploaded without your consent please Contact Us to request its Removal
    Our Site Is Launched For (Sweden) Arabian Speaking Language